لمحہ ضرور وہ کسی سچی صدا کا تھا
لمحہ ضرور وہ کسی سچی صدا کا تھا وقتِ قبولیت مرے حرفِ دعا کا تھا مجھ میں تھا کون جس نے پشیماں کیا مجھے پرچھائیاں تھیں کوئی کہ سایہ خطا کا تھا سوچا تھا ہم نے اس کو بھلا دیں گے ہم مگر رگ رگ میں سوز و ساز اسی خوش نوا کا تھا عقدہ کھلا جو ہم پہ پسِ آئینہ ہے کون پنہاں ہر ایک شے میں تصوّر خدا کا تھا ہم تو سمجھ رہے تھے کہ بادِ صبا چلی بھٹکا ہوا سا ایک وہ جھونکا ہوا کا تھا جب زندگی گزار دی تب یہ خبر ہوئی کیا مسئلہ اطاعت و طرزِ وفا کا تھا عادل تھا زندگی کے عجب موڑ پر جہاں شوقِ بقا تھا اس کو نہ دکھ ہی فنا کا تھا