احمد عادل

احمد عادل

مجھ کو احباب سبھی مائل تبریک ملے

    مجھ کو احباب سبھی مائل تبریک ملے اور کرم یہ کہ مری سوچ سے نزدیک ملے ہے کہاں پہلا وہ قطرہ جو ہو بارش کاسبب کاش برسے کہ سبھی قطروں کو تحریک ملے زیست میں خود کو منورجو سمجھتے تھے انہیں حجرہِ دل میں ہی گوشے کئی تاریک ملے کارواں خود بھی رہا سخت تذبذب کا شکار اس پہ رہبر بھی اسے حاملِ تشکیک ملے مانگنا ہے تو اسی مالکِ الہام سے مانگ اس سے ممکن ہے تجھے شعر کی تملیک ملے کس سے پوچھوں مرے ہونے کا معمہ کیا ہے کہ جواب اس کا ملے اور ذرا ٹھیک ملے جب بھی سوچا اسے تنہائی میں تُو نے عادل بال کچھ شیشہِ دل میں بڑے باریک ملے