احمد عادل

احمد عادل

شعر لکھتے ہوئے کیا کیا نہیں لکھا میں نے

    شعر لکھتے ہوئے کیا کیا نہیں لکھا میں نے بَس تلاطم کو کنارہ نہیں لکھا میں نے میری تنہائی کی ساتھی ہیں تمہاری یادیں اس لیے خود کو اکیلا نہیں لکھا میں نے کیونکہ دانائی کا دعویٰ بڑی نادانی ہے نسلِ انساں تجھے دانا نہیں لکھا میں نے ان گنت اس کی شبیہیں ہیں مگر ایک ہے وہ اسمِ خالق کے علاوہ نہیں لکھا میں نے تجھے ہر گام گزارا ہے بڑی کوشش سے زندگی تجھ کو تماشا نہیں لکھا میں نے بات وزنی ہو تو تکرار ضروری تو نہیں جو بھی لکھا ہے دوبارہ نہیں لکھا میں نے ایک لمحے میں تھیں پنہاں کئی صدیاں عادل وائے قسمت وہی لمحہ نہیں لکھا میں نے