احمد عادل

احمد عادل

وہ میرے ساتھ چلنے پر اگر تیا ر ہو جائے

    وہ میرے ساتھ چلنے پر اگر تیا ر ہو جائے بھلے منزل کی جانب سے مجھے انکا ر ہو جائے مرا فنِ اداکاری نمایاں ہو کے ابھرے گا ذرا تیری کہانی میں مرا کردار ہو جائے نشاط انگیز شاموں کا تسلسل اس طرح ٹوٹا کہ گہری نیند سے یک دم کوئی بیدار ہو جائے اگر اپنی مدھر آواز میں نغمہ سنادے وہ تو راہِ محفلِ یاراں ذرا ہموار ہو جائے اگر وہ اک نظر دیکھے مرے جذبے کی سچّائی نصیحت چھوڑ کر ناصح مرا غم خوار ہو جائے تری آنکھیں بتاتی ہیں تجھے مجھ سے محبت ہے مگر دل کی تسلی کو ذرا اظہار ہو جائے سمجھ لو تیرگی دیرینہ ساتھی ہو گئی عادل چراغِ جاں جلانا جب تمھیں دشوار ہو جائے