احمد عادل

احمد عادل

رکھ مجھے موج میں تو، زینتِ ساحل نہ بنا

    رکھ مجھے موج میں تو، زینتِ ساحل نہ بنا زندگی ایک سفر ہے اسے منزل نہ بنا جتنے موسم بھی گزارے غمِ ہجراں کے بغیر ان میں اک پل بھی مری زیست کا حاصل نہ بنا مجھ کو واعظ نہ پڑھا ترکِ تمنا کا سبق میں تو دیوانہ بھلا ہوں مجھے عاقل نہ بنا زندگی میں نے گزاری اسی در پر لیکن سنگِ دہلیز رہا صحبتِ محفل نہ بنا اپنے معیار پہ ہی خود کو پرکھنا سیکھو مجھے دیکھو میں کسی کا بھی مقابل نہ بنا گو یقیں تھا مر امحکم، پہ تن آسانی میں یہ جو دل ہے یہ مرا مرشدِ کامل نہ بنا یہ الگ بات کہ اپنی سی غزل تو کہہ لی بنتے بنتے میں خیالِ دلِ عادل ؔنہ بنا