احمد عادل

احمد عادل

یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ

    یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ کہ خونِ دل ہ میں پینا ہے اب شراب کے ساتھ بس اس یقین پہ ہوتی ہیں لغزشیں اکثر کہ رحمتوں کا بھی داتا ہے تُو عذاب کے ساتھ یہ قربتوں کا اشارہ ہے یا جدائی کا جو زرد پھول ملا ہے ترے جواب کے ساتھ کہیں ہے تنگی سبو کی کہیں فراوانی تو پھر گرفت بھی مولا اسی حساب کے ساتھ اگر رقیب نہیں ہے تو کون ہے وہ شخص دکھائی دیتا ہے جو آج کل جناب کے ساتھ خیالِ سود و زیاں اور حصولِ منزلِ عشق زوالِ عمر میں جیسے کوئی شباب کے ساتھ فقط یوں شور مچانے کا فائدہ کیا ہے سزا بھی دینا ضروری ہے احتساب کے ساتھ ہمارے ہو تو ذرا کھل کے اعتماد کرو نیا سوال اٹھاتے ہو کیوں جواب کے ساتھ یہ اپنے آپ کو پانا ہے تجھ کو کھونا کیوں تمام عمر کٹی ہے اس اضطراب کے ساتھ یہ سب غروب کے آثار ہیں عیاں عادل کہ سائے بڑھنے لگے ڈھلتے آفتاب کے ساتھ