جاوید انور

جاوید انور

ایک پُرسہ

    بولتے بولتے رک جاتا تھا ڈولتے ڈولتے تھم جاتا تھا کچھ کہتا تھا، کیا کہتا تھا کن سپنوں میں، کیا کرتا تھا کیوں کرتا تھا میری خاطر کیوں جیتا تھا تیری خاطر کیوں مرتا تھا کس سے پوچھیں تیرے رستے تیرے گھر تک میرے رستے میر ےگھر تک ملنا تو اُس سے ملنا تھا اب یہ آگ نہیں بجھنے کی آنسو آنکھ میں لاتی کیوں ہو