استغراق
بھیڑیے ہیں، بھیڑیے ہی بھیڑیے ہیں، میرے اندر بھیڑیے ہیں ، میرے باہر بھیڑیے ہیں، بھیڑیوں سے دشمنی ہے، بھیڑیوں سے دوستی ہے، روشنی ہے، بھیڑیے کی آنکھ میں سورج ہے، صحرا تشنگی کا بھیڑیے کے ہونٹ ، تنہائی، رگوں میں بھاپ ہے، خواہش کسی کے ساتھ کی ، جنگل ہے، جنگل خواہشوں کا، راستے ہیں، راستوں میں راستے ہیں، پیڑ ہیں، سپنوں میں سپنے، نیند کی وادی میں چھپتے پھر رہے ہیں بھیڑیوں سے، بھیڑیے ہیں، شہر میں، شہروں کے قبرستان میں، کتبوں کے پیچھے، خامشی کی اوٹ میں، نعرے ہیں وحشی خوف کے، اوپر خدا ہے، دیکھتا ہے اپنی تنہائی، اداسی، درد ، خواہش، خوف غصہ جیم جنت یا جہنم بھیڑیے ہی بھیڑیے ہیں، میں نہیں ہوں .....!!