جاوید انور

جاوید انور

دھند میں لپٹی ہوئی دعا

    دھند ہے دھند ہے اور رات ہے بھیڑیے سوئے نہیں روشنی کی اک کرن جو سانس کی اندھی گپھا میں دھڑکنوں کی جھاڑیوں میں سرسراتی ہے اسے سورج بنا اے خدا بے حسی کی منجمد جھیلوں کو آتش بار کر میرے دل سے کابل و بغداد تک دھند ہے دھند ہے اور رات ہے بھیڑیے سوئے نہیں