جاوید انور

جاوید انور

جواب ہی سوال ہے

    مگر یہ کیا ہے اور کیوں ہے جامنوں کی چھاؤں ناشپاتیوں پہ ڈھلتی دھوپ میں بدل گئی ہے۔ سورجوں کے بادلوں کے معنی وہ نہیں رہے، جواب کی تلاش میں سوال اور ہو گئے ہیں، سوچتے ہیں اس طرف بھی شہر ہیں، دھواں یہاں بھی کم نہیں ہے، سگرٹوں پہ کینسروں کی فالجوں کی ..... چھاپہ خانے شاد باد ، منزلِ مراد کی لگن میں آپ سو گئے ہیں، راستوں سے کھو گئے ہیں ہم تو کیا ہوا کہ راستے بھی جامنوں کی چھاؤں میں، ناشپاتیوں پہ ڈھلتی دھوپ کا سراب ہیں، کتاب بھی، حساب بھی کتابیوں حسابیوں کے واسطے ہے زندگی کی مال روڈ پر لگے درخت کٹ چکے، کبوتروں کو بلیوں نے کھا لیا، جواب کی تلاش میں، سوال ہی سوال ہیں کہ گیڈروں کے روپ میں ادھر ادھر چھپے ہوئے ہیں، رو رہے ہیں خامشی کے باجروں میں بولتے نہیں.....!