شام ہوئی بِن شا م محمد
-
بس کر پاگل بس کر آگے میں بھی نہیں ہوں تو بھی نہیں ہے تنہائی بے نام محبت خط ہیں جن پر پتا نہیں لکھ سکتے رستہ جنگل صحرا نقطے اور تحریر پڑھی جائے تو اہراموں سے نکل نکل کر ..... لیکن باہر جگراتوں کے شور میں چور ہوں پہرے دار ہوں سر ہوں دل ہوں آنکھیں ہوں یا رنگ برنگی چڑیاں دہشت چھپنے کب دیتی ہے پاگل دھبے دھلتے دھلتے کرتے چیتھڑے بن جاتے ہیں بس کر لذت او رگناہ کا رشتہ ٹوٹ گیا تو بستر سلوٹ سلوٹ نیندیں انگاروں کا رزق دوائیاں کام نہیں آئیں گی ظالم بس کر .....!!