جاوید انور

جاوید انور

نابینا بستی میں سورج

    یہ اندھے ہیں، ہم اندھے ہیں اندھی خوشی ہے، غم اندھے ہیں اور اندھوں میں کم اندھے ہیں جنہیں پتا ہے اندھے پن میں پڑی ہوئی اس قوسِ قزح کا جس کی کھوج میں تم رسوا ہو مجھے پتا ہے، میں اندھا ہوں تم کو راہ دکھاؤں کیسے!