جاوید انور

جاوید انور

دو گیانی

    روتے، پیٹے ہنستے، کھیلتے لڑتے، جھگڑتے پینڈا پورا کر آئے ہیں اور اب اپنی اپنی چھاؤں میں کرسی کرسی پڑے ہوئے ہیں جان چکے ہیں میز پہ رکھی عینک اور اخبار کارشتہ ہوا کا جھونکا آنے تک ہے