بورخیس

بورخیس

اپنے قاری سے

    ترجمہ: شمس الرحمان فاروقی۔ نیر مسعود

    تم نامفتوح ہو۔ کیا انہوں نے تم کو دکھایا نہیں؟

    وہ طاقتیں جنہوں نے تمہاری تقدیر پہلے ہی سے لکھ ڈالی ہے

    خاک کی یقینیت؟ کیا تمہارا وقت

    اس دریا کی طرح مراجعت ناپذیر نہیں

    جس میں ہر اقلیطوس نے گزرتی ہوئی زندگی

    کی علامت کو منعکس دیکھا۔ ایک مرمریں لوح تمہاری منتظر ہے

    اسے تم پڑھو گے نہیں۔ اس پر درج ہے ،پہلے ہی سے

    تاریخ، شہر اور کتبہ مزار

    دوسرے لوگ بھی کیا ہیں، محض وقت کے خواب

    نہ تو امٹ کانسہ اور نہ آب دار سونا

    کائنات بھی تمہاری طرح ایک پروٹیوس ہی ہے

    تاریک، تم اس تاریکی میں داخل ہو گے جو تمہاری منتظر ہے

    تم، جو اپنے سفر کردہ وقت کی سرحدوں تک کے لیے نوشتہ اور سزایاب ہو

    جان لو کہ کسی نہ کسی مفہوم میں اب تک تم مر چکے ہو