نظم
ترجمہ: شمس الرحمان فاروقی۔ نیر مسعود
میں جو آج یہ اشعار گنگنا رہا ہوں
کل وہ معمہ نما لاش ہوگا
جو ایک ایسی ساحرانہ اور بنجر مملکت میں آباد ہو گی
جہاں پہلے نہ بعد، نہ جب نہ کب
صوفی لوگ ایسا ہی کہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ میں خود کو
جنت یا جہنم کے شایان شان سمجھتا نہیں لیکن
کوئی پیشین گوئی بھی نہیں کر سکتا۔ ہر شخص کا افسانہ
پروٹیوس٭ کی آبی شکلوں کی طرح بدلتا رہتا ہے
کون سی بدلتی گزرتی بھول بھلیاں، کون سا کورکن جھماکا
تزک اور شان و شوکت کا ، میری تقدیر بنے گا اس وقت
جب زندہ رہنے کی اس مہم کا اختتام مجھے
موت کے عجیب اور تجسس انگیز تجربے سے دوچار کرے گا؟
میں اس کی بلوریں خالص فراموشی پی ڈالنا چاہتا ہوں
ہمیشہ ہمیشہ ہونے کے لیے ، لیکن کبھی نہ ہونے کے لیے
٭٭٭
٭ یونانی صنمیات میں ایک سمندری دیوتا جو ہر طرح کی شکل اختیار کرنے پر قادر تھا۔