چھ مختصر نظمیں
ترجمہ: انور زاہدی
1
وہاں بلندی پر
باغ چاندنی میں نہایا ہوا ہے
چاند سنہری ہے
تمہارے لبوں کا لمس
سائے میں بے حد قیمتی ہے
2
پرندےکی آواز
جسے شفق نے چھپا لیا ہے
خاموش ہو گئی ہے
تم باغ میں ٹہلتی ہو
مجھے علم ہے کہ
تم کس کے لیے بے قرار ہو
3
تلوار جو کبھی کسی
دوسرے کی گرفت میں تلوار تھی
چاندنی گلی میں مجھ سے کہتی ہے
کیا وہ کافی نہیں ہیں؟
4
چاند تلے
طلائی شیر اور سایہ
نیچے اس کے پنجوں کو دیکھتا ہے
اس سے بے خبر کہ صبح کے وقت
انہوں نے ایک آدمی کو زخمی کر دیا
5
سنگ مرمر پر برستی ہوئی بارش
زمین میں ڈھل جانے پر اداس ہے
اداس ہے کہ ، وہ انسان، خواب اور صبح کا
جزو نہیں بن سکتی
6
اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کی طرح
جنگ میں نہ کٹ مرنے پر
بے ثمر راتوں میں
وہ، جو حروف کو گنتا ہے