بورخیس

بورخیس

چھ مختصر نظمیں

    ترجمہ: انور زاہدی

     

    1

    وہاں بلندی پر

    باغ چاندنی میں نہایا ہوا ہے

    چاند سنہری ہے

    تمہارے لبوں کا لمس

    سائے میں بے حد قیمتی ہے

    2

    پرندےکی آواز

    جسے شفق نے چھپا لیا ہے

    خاموش ہو گئی ہے

    تم باغ میں ٹہلتی ہو

    مجھے علم ہے کہ

    تم کس کے لیے بے قرار ہو

    3

    تلوار جو کبھی کسی

    دوسرے کی گرفت میں تلوار تھی

    چاندنی گلی میں مجھ سے کہتی ہے

    کیا وہ کافی نہیں ہیں؟

    4

    چاند تلے

    طلائی شیر اور سایہ

    نیچے اس کے پنجوں کو دیکھتا ہے

    اس سے بے خبر کہ صبح کے وقت

    انہوں نے ایک آدمی کو زخمی کر دیا

    5

    سنگ مرمر پر برستی ہوئی بارش

    زمین میں ڈھل جانے پر اداس ہے

    اداس ہے کہ ، وہ انسان، خواب اور صبح کا

    جزو نہیں بن سکتی

    6

    اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کی طرح

    جنگ میں نہ کٹ مرنے پر

    بے ثمر راتوں میں

    وہ، جو حروف کو گنتا ہے