بورخیس

بورخیس

نوحہ

    ترجمہ: انور زاہدی

     

    تین قدیم چہرے میرے ہمراہ رہتے ہیں

    ایک چہرہ سمندر کا ہے

    جو کلاڈیٹس سے باتیں کرے گا

    دوسرا چہرہ شمال کا

    جو غیر محسوس غصہ لیے ہوئے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب

    کے وقت موجود رہتا ہے

    تیسرا چہرہ موت کا ہے

    جسے دوسرا نام ہم گزرے ہوئے وقت کا دے سکتے ہیں

    جو ہم سب کو ختم کر دیتا ہے

    گزرے ہوئے دنوں کا غیر مقدس بوجھ

    تاریخ سے جو کچھ کہ ہو گیا، یا جسے خواب میں دیکھا گیا

    مجھے احساس گناہ کی طرح دباتا ہے

    میں اس باوقاربحری جہاز کے بارے میں سوچتا ہوں

    جو سکیڑ سینگ کی لاش کو سمندر میں لیے جاتا ہے

    جس نے ڈنمارک پہ حکمرانی کی

    میں اس عظیم بھیڑیے کے بارے میں سوچتا ہوں

    جس کی باگیں سانپ تھے

    جنہوں نے جلتی ہوئی کشتی کو

    مرحوم حسین دیوتا کی پاکیزگی اور براقی عطا کی

    میں ان بحری قزاقوں کے بارے میں سوچتا ہوں

    جن کا انسانی گوشت

    ان پانیوں کے بوجھ تلے چونے میں بکھرا ہوا ہے

    جو کبھی ان مہمات کی جولا نگاہ تھے

    میں ان مقبروں کے بارے میں سوچتا ہوں

    جو ملاحوں نے شمال کی جانب سفر کے دوران دیکھے

    میں خود اپنی موت کے بارے میں سوچتا ہوں

    ایک مکمل موت

    آنسوؤں اور جنازے کے بغیر