بورخیس

بورخیس

نظم

    ترجمہ: شمس الرحمان فاروقی۔ نیر مسعود

     

    بالکل اچانک شام کھل جاتی ہے، آخر کار

    کیوں کہ باہر اب نرم ننھی بارش ہو رہی ہے

    ہو رہی ہے یا ہو چکی۔ بارش خود یقیناً

    کچھ ایسی چیز ہے جو ماضی میں واقع ہوتی ہے

     

    جس کسی نے اسے بدلتے ہوئے سنا، اسے یاد ہے

    ایک لمحہ جب تقدیر کا کوئی انوکھا پیچ اس کے پاس ایک

    پھول واپس لایا جس کا نام تھا ۔۔۔۔ گلاب

    اور اس کے سرخ پتوں کی پیچیدہ و پریشان کن سرخی

    یہ بارش جو کھڑکی کے شیشے پر اپنا پردہ ڈال دیتی ہے

    ان بھولے بسرے شہری مضافات میں بھی روشن کرتی ہو گی

    ان سیاہ انگوروں کو، جو ایک ایسی بیل پر لگے ہیں

    جو ایک چھوٹے سے گھر کی پردہ پوش ہے

    ایسا گھر، جو کہ اب نہیں۔ شام کی بارش

    ایک آواز کو میرے پاس دوبارہ لے آتی ہے، میرے باپ کی محبوب آواز

    وہ جو کہ اب لوٹ آتا ہے، وہ جو کبھی مرا نہیں