شہرت شعرم
ترجمہ: شمس الرحمان فاروقی۔ نیر مسعود
آسمان کی کور میری عظمت و شان کا پیمانہ ہے
مشرق کے کتاب خانے میرے اشعار کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے آپس میں
نبرد کناں ہیں
بادشاہان مجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کر میرا منہ زر و جواہر سے بھرتے ہیں
فرشتوں تک کو میرے اشعار زبانی یاد ہیں
درد اور عزلت میرے آلاتِ فن ہیں
اے کاش بس یہی ہوتا کہ میں مردہ پیدا ہوا ہوتا