جنہیں کوئی نہیں جانتا
ترجمہ: انور زاہدی
بک شیلف کے گوشوں میں نظروں سے اوجھل
دوسروں سے پوشیدہ گری ہوئی کتاب
اک بے آواز اور ست خاک کے ساتھ
جو دنوں اور راتوں کو ڈھک دیتی ہے
اور سیڈون کا لنگر بھی جسے انگلستان کے
گرد پھیلے ہوئےسمندر اپنے اندھے اور نرم پاتال میں دبا دیتے ہیں
آئینہ، جو کسی کے چہرے کو نہیں دکھاتا
جب سے گھر کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے
ناخنوں کو گھسنے والی ریتیاں،
جو ہم زمان و مکان کی بیکراں وسعت میں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں
نہ پڑھی جا سکنے والی مٹی، جو کبھی شیکسپیئر تھی
بادل کی بدلتی ہوئی ہئیتیں
لمحاتی لیکن خوبصورت گلاب
جو ایک بار اتفاق سے ایک لڑکے کی کفن پوش
کلیڈو سکوپ کا حصہ بن گیا
اصل بحری جہاز آرگس کے چپو
ریت پر قدموں کے نشان،
جو مہلک لہر نیند کی کیفیت میں ساحل سے نابود کردیتی ہے
جنگ تنگ گیلری میں
روشنیاں بجھا دی جاتی ہیں، اس وقت مدور رنگ
اور گہری رات میں کسی کے قدموں کی چاپ
سنائی نہیں دیتی
لق و دق دنیا کے نقشے کی دوسری سمت
اہرام میں باریک مکڑی کا جالا
بے بصارت پتھر اور دریافت کرنے والا ہاتھ
خواب، جسے میں نے طلوع آفتاب کے وقت دیکھا
اور پھر روشن دن میں کھو دیا
فنسبر کا شروع اور ختم ہوتا رزمیہ
آج لوہے کی وہ چند نظمیں ہیں
صدیوں کو جن سےکوئی سروکارنہیں
سیاسی چوس کاغذ پر خط کا عکس
حوض کی تہہ میں کچھوا
اور وہ جو کبھی نہیں ہو سکتا
یونی کارن کا دوسرا سینگ
ہونا، ایک میں تین
تیکونا، تھال، ناقابل فہم لمحہ
جس میں ہوا میں ساکن ایلٹک کا یر
اپنے نشانے پر پہنچتا ہے
بیکور کے صفحات میں دبے ہوئے کاسنی پھول
پنڈولم جسے وقت نے اپنی جگہ روک دیا ہے
وہ ہتھیار جسے اوڈن نے درخت میں دفن کر دیا تھا
کتاب جس کے صفحات ابھی تک نہیں کٹے
جونن کے حملہ پر گرجتے سموں کی گونج
جو کسی نہ برداشت کرنے والی کیفیت میں
ابھی نہیں تھمی، ایک جال کا حصہ ہے
سڑک کے کناروں پر ساری اینتو کا سایہ
آواز جسے چرواہے نے پہاڑوں پر سنا
صحرا میں سفید رنگ میں ڈھلتا ہوا ڈھانچہ
فرانسکو بورخیس کو مار دینے والی گولی
منقش پردے کی دوسری جانب
اشیا جنہیں کوئی نہیں دیکھتا
برکلے کے خدا کے سوا