میری کتابیں
ترجمہ: انور زاہدی
میری کتابیں،
جو نہیں جانتیں کہ میں موجود ہوں
میرے وجود کا ایسے ہی جزو ہیں، جیسے میرا چہرہ
دھندلائی گئی آنکھوں کی طرح مٹیالے مندر
چہرہ،
جس میں اپنے خمیدہ ہاتھ کی مدد سے
اس کے خطوط کو چھوتے ہوئے بمشکل آئینے میں
کسی ناقابل فہم تلخی کے بغیر دیکھ سکتا ہوں
میں محسوس کرتا ہوں کہ
جو مجھے نہیں جانتے
میرا اظہار کرتے ہوئے انہی صفحات میں ہیں
نہ ان میں جو میں نے تحریر کیے
یوں ہی بہتر ہے
مرنے والوں کی آوازیں
مجھ سے ہمیشہ ہم کلام رہیں گی