یادوں کی فہرست
ترجمہ: انور زاہدی
وہاں تک پہنچنے کے لیے سیڑھی لگانی پڑے گی
کیونکہ اوپر جانے کے لیے زینہ نہیں ہے
اس مچان پر ہمیں کیا دیکھنا ہو گا؟
وہاں کی نمی کی بدبو ہے
ڈھلتی ہوئی سہ پہر لانڈری کے رستے داخل ہوتی ہے
چھت کی کڑیاں نزدیک ہیں اور فرش گل چکا ہے
کوئی بھی یہاں قدم رکھنے کی جرأت نہیں کرتا
ایک تہہ شدہ ٹوا ہوا پلنگ
چند بیکار اوزار
مرنے والی کی وہیل چیئر
لالٹین کے لیے جگہ
پیراگوئے کا بنا ہوا آویزاں خستہ بستر
سامان او رکاغذات
اپراسیو سارادا کے جنرل سٹاف کا نشان
پرانا سیاہ لوہا
ٹوٹے پنڈولم والا ٹھہرے ہوئے وقت کا کلاک
محض دوٹانگوں کا اسٹوو
چمڑے کا بنا ہوا صندوق
قدیم گوتھک طرز تحریر میں ، پھپھوندی لگی ہوئی فاکسی کی شہیدوں کی کتاب
ایک تصویر جو کبھی کسی کی ہو گی
ایک گھسی ہوئی کھال جو کبھی کسی شیر کی تھی
ایک چابی جس کا تالہ گم ہو چکا
ہم اس مچان پر بے تربیتی کے کوڑے کے علاوہ
کیا ڈھونڈ سکتے ہیں؟
گم شدہ چیزوں کو بھول جانے کے لیے
میں نے یادگار کھڑی کی ہے
بلاشبہ کانسی سے کہیں زیادہ پائیدار
جو خود انہی میں گم ہو جائے گی