بورخیس

بورخیس

پندرہ سکے

    ترجمہ: انور زاہدی

     

    1 ۔ مشرقی شاعر

    سینکڑوں خزائیں

    میں نے تمہارے غیر یقینی تھال کو دیکھ کے گزاریں

    سینکڑوں خزائیں

    میں جزیروں پہ تمہاری قوس قزح کو دیکھتا رہا

    سینکڑوں خزائیں

    اور میرے لب کبھی اتنے کم خاموش نہ رہے

     

    2 ۔ صحرا

    وقت کے بغیر خلا

    چاند کا رنگ ویسا ہی ہے جیسے ریت

    اب اس قطعی لمحے میں

    میٹارس اور ٹرافلگر کے لوگ مرتے ہیں

     

    3 ۔ بارش ہو رہی ہے

    گزرے ہوئے کون سے کل

    کار تھیج کے کن صحنوں میں

    بھلا یہ بارش برتی ہے؟

     

    4 ۔ ستارہ نما

    سال مجھے انسانی چارہ عطا کر تا ہے

    اور وہاں حوضوں میں پانی ہے

    پتھریلے راستے میری ذات میں ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں

    میں کس کی شکایت کر سکتا ہوں

    ڈھلتی ہوئی سہ پہر میں

    بیل کا سر مجھ پر کچھ بوجھ ڈالتا ہے

     

    5 ۔ ایک چھوٹا شاعر

    مقصد مبہم ہے

    میں وقت سے پہلے آگیا ہوں

     

    6 ۔ ابتدائے تخلیق

    میں حقیقی صحرا میں تھا

    دو بازوؤں نے ایک بڑے پتھر کو چھوڑ دیا

    کوئی چیخ نہ ابھری، بس خون تھا

    یہ پہلی موت تھی

    مجھے اب یاد نہیں کہ میں ہابیل تھا یا قابیل

     

    7 ۔ نوقمبریا ( 9 سال بعد از مسیح)

    طلوع آفتاب سے پہلے بھیڑیوں کو اسے کھا لینے دو

    تلوار ہی تیز ترین وسیلہ ہے

    8 ۔ سروانتے

    ظالم اور نیک دونوں ستارے

    میری تخلیق کی شام دیکھتے رہے

    زنداں کے لیے میں ان میں سے آخری کا مقروض ہوں

    جس میں، میں نے ان ڈان کو خوتے کا خواب دیکھا

     

    9 ۔ مغرب

    غروب ہوتے ہوئے سورج کے ساتھ آخری گلی

    شور و غوغا کی شروعات

    موت کی ابتدا

     

    10 ۔ شطرنج کا کھیل

    وقت مہروں کے بغیر

    صحن میں شطرنج کا کھیل کھیلتا ہے

    شاخ کے ہلنے کی آہٹ

    رات پر حملہ کرتی ہے

    باہر ویرانہ خاک اور خواب کے نامختتم اشتراک کو ضائع کرتا ہے

    ہم دونوں سائے

    دوسرے سایوں کے حکم کی نقل کرتے ہیں

    گوتم اور ھیرا کلائیٹس

     

     

    11 ۔ قیدی

    ٹھوس لوہے کے دروازوں میں سے

    ایک فائل

    ایک دن میں آزاد ہو جاؤں گا

     

    12 ۔ میکبتھ

    ہمارے کھیل لکھے ہوئے رستوں پر جاری رہتے ہیں

    جن کے اختتام کا کچھ علم نہیں

    میں نے اپنی آزادی کو تہہ تیغ کیا

    تاکہ شیکسپیئر اپنے المیے کا پلاٹ تیار کر سکے

     

    13 ۔ ابدیت

    سانپ جو سمندر کا احاطہ کرتا ہے اور سمندر ہے

    جیسن کا چپو سیگرڈ کی نوخیز تلوار

    وقت میں صرف وہ اشیا زندہ رہ جاتی ہیں

    وقت میں صرف وہ اشیا زندہ رہ جاتی ہیں

    جو خود وقت میں نہیں ہوتیں

     

    14 ۔ ایڈ گرایلن پو

    خواب جو میں نے دیکھا

    گڑھا اور پنڈولم

    انتہاؤں کا انسان ......

    اور یہ ایک دوسرا آدمی

     

    15 ۔ جاسوس

    جنگوں میں عوام کی چمک

    دوسرے لوگ اپنے ملکوں کے لیے جان دیتے ہیں

    اور سنگ مرمر میں یاد رہ جاتے ہیں

    میں نے اسے کچھ اور اشیا دی ہیں

    میں پہلے ہی اپنی عزت کی قسم کھاتا ہوں

    میں نے انہیں جو مجھے دوست سمجھتے تھے۔ دھوکا دیا

    میں نے ضمیر خریدے

    میں نے اپنے ملک کا نام ڈبویا

    اور خود کو گمنامی کے سپرد کر دیا