شطرنج
ترجمہ: اجمل کمال
ایک گمبھیر کونے میں بیٹھے کھلاڑی ست رو مہروں کو آگے بڑھاتے ہیں
شطرنج کی بساط سورج نکلنے تک انہیں اپنی قید میں رکھتی ہے
اس بساط پر دو رنگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں
مہروں کی مختلف شکلوں میں کھیل کے طلسمی قوانین پوشیدہ ہیں،
ہومر کے یونانی قلعے، سبک رفتار گھوڑے،
جنگجوملکہ، پیچھے رہ کر فیصلے کرنے والا بادشاہ
غیر منصف پیشوا اور حملہ آور پیادے
کھلاڑیوں کے اٹھ جانے کے بعد،
اور موت کے گھاٹ اتر جانے کے بعد بھی،
یہ رسم جاری رہتی ہے
اوراس جنگ کی آگ پہلے پہل مشرق میں بھڑکی تھی
اور اب ساری دنیا اس کی تماشا گاہ ہے
محبت کی طرح یہ کھیل بھی دائمی ہے
بزدل بادشاہ ، عیار پیشوا، بے رحم ملکہ
مضبوط قلعہ، حیلہ ساز پیادے
اپنے سیاہ اور سفید راستوں پر چڑھائی کرتے
اور جنگ کا آغاز کرتے ہیں
وہ نہیں جانتے کہ ان کی تقدیر کے پیچھے
شطرنج کے کھلاڑی کا مشاق ہاتھ ہے
وہ نہیں جانتے کہ ان کی خواہش سے بے نیاز، ایک سفاک تقدیر
جنگ کی یہ بساط بچھاتی ہے
لیکن کھلاڑی خود بھی کسی اور بساط پر تقدیر کا زندانی ہے
(یہ قول عمر خیام کا ہے)
جو اندھیری راتوں اور روشن دنوں سے مل کر بنی ہے
خدا اسے حرکت دیتا ہے اور وہ مہروں کو
لیکن خدا کی پشت پر کون ہے جس نے
خاک اور وقت اور خواب اور کرب کے
اس کھیل کا آغاز کیا ہے؟