نکلنا خلد سے آدم کا
ترجمہ: شمس الرحمان فاروقی۔ نیر مسعود
وہ باغ ۔۔۔۔۔۔ حقیقی تھا یا خواب؟
دھند بھری روشنی میں مست میں یہ پوچھتا رہا ہوں
(تقریباً ایک تسلی کی طرح) کہ وہ ماضی
جو اس آج کے ناآسودہ آدم کی مالک ہے،
اس خدا کا بنایا ہوا ایک طلسمی خواب تو نہیں تھا
جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا؟ اب یہ حافظے میں
غیر قطعی اور مبہم ہے، وہ شفاف فردوس،
لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ موجود ہے اور باقی رہے گا
اگرچہ میرے لیے نہیں۔ درگذر نہ کرنے والی زمین
میرا دکھ درد ہے اور ہابیل ، قابیل اور ان کی آل
کے درمیان میں الاخوانی جنگیں بھی میرا دکھ درد ہیں
مگر پھر بھی یہ بہت ہے کہ ہم سے محبت ہوئی
ہم خوش رہے اور ایک ہی دن کے لیے سہی
مگر اس جیتے جاگتے باغ کو چھو تو لیا ہم نے