شکیل جاذب

شکیل جاذب

جب کبھی دل کے مضافات میں آجاتا ہوں

    جب کبھی دل کے مضافات میں آجاتا ہوں میں خرابے سے خرابات میں آ جاتا ہوں تو نہ دیکھے تو عجب حبس میں دم گھٹتا ہے تیرے دیکھے سے میں برسات میں آ جاتا ہوں جاگتی آنکھ کا اک خواب سا ہے بیچ کہیں رات کٹتی ہے تو پھر رات میں آجاتا ہوں اپنی منوائے گا تجھ لب سے ادا ہو کے جہان جانتا ہے کہ تری بات میں آ جاتا ہوں میں جو آپے سے ہوا پھرتا ہوں باہر جاذبؔ اس سے ملتا ہوں تو اوقات میں آ جاتا ہوں