شکیل جاذب

شکیل جاذب

تغافل بھی برتنا دھڑکنیں ہمراز بھی کرنا

    تغافل بھی برتنا دھڑکنیں ہمراز بھی کرنا کسی کا ہو کے بھی رہنا نظر انداز بھی کرنا نگاہیں پھیرنا او ردیکھنا چشمِ تصور سے مقفل کر کے دروازہ، دریچہ باز بھی کرنا کسی کے روبرو ایسا کہاں آسان ہوتاہے خموشی کا بھرم رکھنا سخن آغاز بھی کرنا تری تیغِ ادا کی خیر اس کو زیب دیتا ہے لگانا زخم سینوں میں پھر ان پر ناز بھی کرنا ملیں تو اس طرح ملنا کہ جیسے اجنبی ہوں ہم مگر ابرو کی جنبش کو ذرا غمّاز بھی کرنا پہنچ جائے کسی دل تک جو لفظوں میں نہیں لکھا عطا جاذبؔ کو ربّ ِ لظق یہ اعجازبھی کرنا