شکیل جاذب

شکیل جاذب

رہِ زندگی سے گزر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں

    رہِ زندگی سے گزر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں کہ ہے دھوپ سر پہ مگر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں مرے سر خوشی ترا قرب ہے مجھے رفعتوں سے غرض نہیں سو میں زینہ زینہ اتر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں یہیں عمر ساری کٹی مگر نہ ہے سر پہ خاک نہ جیب چاک میں رہا تو دشت میں پر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں کہیں زلف ہے تو کہیں شعاع بھی پڑ رہی ہے جمال کی سو ذرا سی دھوپ بھی بھر رہاہوں ترے خیال کی چھاؤں میں غمِ بے وفائی کی حدّتیں ہیں نہ خوفِ آتش ہجر ہے بسر اپنی زندگی کر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں ذرا بے رخی بھی ہوئی اگر تو یہ دل وہیں پہ تمام ہے یہ گلاب آج میں دھر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں یہ چراغِ عشق کی لَو فقط ترے رخ پہ جلوہ فگن نہیں مری جان میں بھی نکھر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں میں ہوں جاذبِ ؔ غم دل ترا تو ہے میری شبنم آرزو میں ترا شریکِ سفر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں