اب جس کو ترستی ہے نظر اور کہیں ہے
اب جس کو ترستی ہے نظر اور کہیں ہے اے شہر ترا شہر بدر اور کہیں ہے اک دیپ کی لَو دھیان میں اک بزم میں روشن دل اور کہیں محو نظر اور کہیں ہے اے انجمنِ انجم و مہتاب خبردار بس را ت کی مہلت ہے سحر اور کہیں ہے ہم آپ کے ہیں آپ کے قدموں میں پڑے ہیں اک شخص ہمارا ہے مگر اور کہیں ہے کیا آپ سے رکھوں میں تواضع کی توقع جس حال میں ہوں اس کی خبر اور کہیں ہے اغیار کے ہاتھوں میں تھما دی ہیں مہاریں منزل ہے کہیں اور سفر اور کہیں ہے بغداد تو آغاز تھا اِ س خونی سفر کا اِن فتنہ پسندوں کی نظر اور کہیں ہے ناقدری عالم کا گلہ کس کو ہے جاذبؔ معلوم ہے توقیرِ ہنر اور کہیں ہے