شکیل جاذب

شکیل جاذب

آسماں تھا تم تھے یا میرا ستارا، کون تھا

    آسماں تھا تم تھے یا میرا ستارا، کون تھا میری ہر منزل مسافت سے بدلتا کون تھا بس یونہی اک ضد میں ساری زندگی برباد کی جانتا ہوں روگ کیا تھا اور مداوا کون تھا ہر قد م تازہ کمک ملتی رہی اپنے خلاف میرا اپنا ہی عدہ میرے علاوہ کون تھا کیا کسی امید پر پھر سے درِ دل وا کروں تجھ سے بڑھ کر خود بتا میرا شناسا کون تھا وہ تو میں بس پیار کر بیٹھا کسی سے اے خدا ورنہ تیرے ان کھلونوں سے بہلتا کون تھا