شکیل جاذب

شکیل جاذب

کب پلٹ کر وہ تجھے دیدۂ تر دیکھیں گے

    کب پلٹ کر وہ تجھے دیدۂ تر دیکھیں گے جانے والے تو فقط اپنا سفر دیکھیں گے اس سے آگے کا ہر اک فیصلہ تجھ پر چھوڑا جاتے جاتے تجھے ہم ایک نظر دیکھیں گے رتجگے صرف ترے ساتھ مزا دیتے ہیں تو نہ ہو گا تو کہاں دوست سحر دیکھیں گے شعلہ ہجر سے جب ہو گا عطا لَے کو گداز تب کہیں جا کے میاں لفظ اثر دیکھیں گے اب کرم ہو کہ ستم، ہم تو یہیں کے ٹھہرے وہ نہیں ہم جو کسی اور کا در دیکھیں گے تیرے قدموں سے لپٹتی ہوئی مٹی کی قسم جب تک آنکھیں ہیں تری راہ گذر دیکھیں گے ہم رہیں یا نہ رہیں پر ترا رستہ پیارے! گاؤں کی ٹوٹی سڑک گاؤں کے گھر دیکھیں گے