شکیل جاذب

شکیل جاذب

کچھ لوگ مانتا ہوں مسائل سے آئے ہیں

    کچھ لوگ مانتا ہوں مسائل سے آئے ہیں ان پر تو شک نہ کر جو یہاں دل سے آئے ہیں اڑ اڑ کے خاکِ قیس ہوا چومنے لگی جھونکے لپٹ کے پردۂ محمل سے آئے ہیں جس پر اٹھے وہ آنکھ اسے آئینہ کرے جو اس سے مل کے آئے ہیں جھلمل سے آئے ہیں اب سوچ کر ہمارے قدم سے قدم ملا ہم زندگی، فنا کے مقابل سے آئے ہیں