کیا کیا تیرے فقیر کو حاصل نہیں رہا
-
کیا کیا تیرے فقیر کو حاصل نہیں رہا یہ اور بات اپنا پتہ مل نہیں رہا جو سمت جی میں آئے سوچن لیجیے حضور ہونا تھا جس کو راہ میں حائل نہیں رہا بس جیتنا پڑا غمِ دوراں کا کھیل بھی حالانکہ اس میں دل سے میں شامل نہیں رہا رکتایہاں کچھ اور، مگر مسلہ یہ ہے جینا اب ا س دیا ر میں مشکل نہیں رہا اس بارگاہِ حسن میں رہنا کسے نصیب دل آگیا اگر تو سمجھ دل نہیں رہا