صدائیں دیں نہ ہمیں یار ہم نکل لیے ہیں
صدائیں دیں نہ ہمیں یار ہم نکل لیے ہیں کوئی ہے منتظر اس پار ہم نکل لیے ہیں ہم اہلِ دل ہیں ہمیں قید کیا رہائی کیا ملا جب اذنِ درِ یار، ہم نکل لیے ہیں ہمارا تخت بھی برگد کی چھاؤں میں ہے کہیں سو چھوڑ چھاڑ کے گھر بار ہم نکل لیے ہیں اب ایک مجمع دل دادگاں ہے ساتھ اپنے زمانہ کہتا تھا بے کار ہم نکل لیے ہیں یہاں نہ جان سلامت نہ آبرو صاحب بغل میں داب کے داستار ہم نکل لیے ہیں مزاج بزم کا بھی آپ کا اشارہ بھی سمجھ رہے ہیں سو سرکار ہم نکل لیے ہیں بہت دنوں سے رفیقانِ باصفا جاذبؔ بلا رہے تھے سرِ دار ہم نکل لیے ہیں