جرعہ جرعہ تری تلخی کو نشہ کون کرے
-
جرعہ جرعہ تری تلخی کو نشہ کون کرے زندگی تجھ کو بسر میرے سوا کون کرے سانس رک جائے جو پل بھر بھی ترا دھیان نہ ہو کارِ دنیا کے لیے خود کو خفا کون کرے تجھ سے تسلیم کا رشتہ ہے فقط پیار نہیں تجھ سے بنتا بھی اگر ہو گلہ کون کرے جانتا ہوں پکارا تو پلٹ آئے گا گرہیں پڑتی ہوئی سانسوں کو صدا کون کرے کام آئی ہے مرے سرخی لہو کی ورنہ اس کو پا بند بہ زنجیرِ حنا کون کرے