جس کو دیکھا نہیں کئی دن سے
-
جس کو دیکھا نہیں کئی دن سے وہ ہے دل میں مکیں کئی دن سے جانے کیسی نظر پڑی اس کی میں وہیں کا وہیں کئی دن سے خشک دریا سے مجھ کو یاد آیا میں بھی رویا نہیں کئی دن سے ابر لازم ہوا سرِمژگاں دل ہے سوکھی زمیں کئی دن سے کر رہا ہوں عبث نظر انداز ایک روئے حسیں کئی دن سے ہو رہا ہے گماں ثمر آور پل رہا ہے یقیں کئی دن سے بن گئی ہیں بہ فیض مئے جاذبؔ تلخیاں انگبیں کئی دن سے