داد و تحسین نہ مسند سرِ دربار ملی
-
داد و تحسین نہ مسند سرِ دربار ملی کیسے ملتی کہ مجھے جرأت ِ اظہار ملی ہم کو معلوم ہے سردار نے کس کس در پر خم کیا ہے سرِ تسلیم تو دستار ملی کب غرض عشق میں رکھی تھی گزر جانے سے ہم کو درکار تھی دیوار، سو دیوار ملی زندگی ایک تھی لیکن ترے دوارے آ کر ہم نے سو بار لٹائی ہمیں سو بار ملی کب کوئی عہد نبھانے کو کہا تھا تجھ سے فرصتِ یک دو نفس بھی نہ تجھے یار ملی