چھُپے ہوئے کسی منظر کا آدمی تھا میں
چھُپے ہوئے کسی منظر کا آدمی تھا میں جو دیکھتے تو برابر کا آدمی تھا میں برس رہے تھے مسلسل مجھی پہ میرے تیر تو کیا غنیم کے لشکر کا آدمی تھا میں یقین کیوں نہیں کرتے ہیں یہ درودیوار انہیں بتاؤ، اِسی گھر کا آدمی تھا میں نگل رہی تھی مجھے لفظوں کی بے مہری کہ اِس دیار میں باہر کا آدمی تھا میں گھٹا نے مجھ کو اتارا تھا ایک صحرا میں وہ اِس لیے کہ سمندر کا آدمی تھا میں نہ جا سکا میں تری کائنات سے باہر تری گلی کے مقدر کا آدمی تھا میں نظر ملا نہیں سکتے تھے خار و خس مجھ سے چمن میں سرو و صنوبر کا آدمی تھا میں یہ کس خیال نے پگھلا دیا مجھے کل شام تمہارے بعد تو پتھّر کا آدمی تھا میں اِسی نواح میں ہوں گے مرے نشانِ قدم سو دیکھ لو! اُسی نمبر کا آدمی تھا میں اوڑھا دیا مجھے یاروں نے جون کا موسم مزاج میں تو دسمبر کا آدمی تھا میں عتیقؔ! مجھ کو زمانہ نہیں مِلا میرا کسی روایتِ دیگر کا آدمی تھا میں