کیا ارادہ اُسے لے کر آتا
کیا ارادہ اُسے لے کر آتا صرف مولا اُسے لے کر آتا پا شکستہ تھے مِرے شہر کے لوگ کون جاتا، اُسے لے کر آتا بے تعلق تھا یہاں کون اُس سے یہ علاقہ اُسے لے کر آتا روز دستک مِرے دل پر ہوتی روز رستہ اُسے لے کر آتا وقت لکھتا اُسے مِری خاطر کوئی قصّہ اُسے لے کر آتا جان جاتی اُسے رخصت کرنے دل دوبارہ اُسے لے کر آتا ایک خوش بو، اُسے بوسہ دیتی باغ سارا اُسے لے کر آتا یاد کرتے اُسے کل نخل و نہال اک پرندہ اُسے لے کر آتا اُس کو ٹک سیر کراتے دل کی یہ تماشا اُسے لے کر آتا یہ درو بام بلاتے اُس کو یہ دریچہ اُسے لے کر آتا ایک خوش بو سی اترتی چھت پر اور زینہ اُسے لے کر آتا شام کشتی پہ بٹھانے جاتی صبح دریا اُسے لے کر آتا لہر، لہرا کے سلامی دیتی پھر کنارہ اُسے لے کر آتا نجد والوں کی بھی قسمت کھُلتی کاش! صحرا اُسے لے کر آتا ریل، سیٹی سی بجاتی مجھ میں مَیں پہنچتا، اُسے لے کر آتا کون تھا جو غمِ دنیا کے عوض بے تمنّا اسے لے کر آتا راہ میں ایک خوشی نے روکا رنج ورنہ اُسے لے کر آتا باغ کی سمت، صبا کے ہم راہ مَیں بھی جاتا اُسے لے کر آتا شام دعوت میں بلاتی اُس کو اِک ستارہ اُسے لے کر آ تا رات بستر میں تھپکتی رہتی کوئی سپنا اُسے لے کر آتا صُبح تکتی اُسے حیرانی سے جب اُجالا اُسے لے کر آتا وقت کی حد میں نہیں تھا جو وجود کوئی کتنا اُسے لے کر آتا لاکھ رستوں میں الجھتے رستے عشق سیدھا اُسے لے کر آتا ایک عالم کی ضرورت رہتی ہر زمانہ اُسے لے کر آتا ہر زمانے کی طرف سے میں عتیقؔ دست بستہ اُسے لے کر آتا