عتیق احمد جیلانی

عتیق احمد جیلانی

مَیں جس کی خواہش پہ اپنے حصّے میں آگیاتھا

    مَیں جس کی خواہش پہ اپنے حصّے میں آگیا تھا مجھے نہ پا کر وہ آپ سکتے میں آ گیا تھا اب اُس کو جا کر بتاؤں گا اصل بات کیا تھی پتا کروں گا، وہ کس کے کہنے میں آ گیا تھا مِری صدا سے جُڑے ہوئے تھے تمام رستے جسے پکارا پلک جھپکتے میں آ گیا تھا عجب نشانی تھی اس کے ہونے کی اس مکاں میں وہ خود نہیں تھا، پہ دل دریچے میں آ گیا تھا مجھے سُبک دوش کر رہی ہے حکومتِ حسن میں آنکھ کھلتے ہی اس ادارے میں آ گیا تھا سرائے والو! سمیٹ لے جاؤ اپنا بستر یہ خواب میرا کہاں ہے! تکیے میں آ گیا تھا اُسے بتائے نہیں گئے تھے اُصول شاید جو آنکھ لے کر کسی تماشے میں آ گیا تھا مِری ہزیمت نے دل گرفتہ کیا ہے تم کو یقین مانو! مَیں اپنے نرغے میں آ گیا تھا سو کس طرح اپنے گھر پہنچتا عتیقؔ احمد تری گلی کا خیال رستے میں آ گیا تھا