مَیں جس کی خواہش پہ اپنے حصّے میں آگیاتھا
مَیں جس کی خواہش پہ اپنے حصّے میں آگیا تھا مجھے نہ پا کر وہ آپ سکتے میں آ گیا تھا اب اُس کو جا کر بتاؤں گا اصل بات کیا تھی پتا کروں گا، وہ کس کے کہنے میں آ گیا تھا مِری صدا سے جُڑے ہوئے تھے تمام رستے جسے پکارا پلک جھپکتے میں آ گیا تھا عجب نشانی تھی اس کے ہونے کی اس مکاں میں وہ خود نہیں تھا، پہ دل دریچے میں آ گیا تھا مجھے سُبک دوش کر رہی ہے حکومتِ حسن میں آنکھ کھلتے ہی اس ادارے میں آ گیا تھا سرائے والو! سمیٹ لے جاؤ اپنا بستر یہ خواب میرا کہاں ہے! تکیے میں آ گیا تھا اُسے بتائے نہیں گئے تھے اُصول شاید جو آنکھ لے کر کسی تماشے میں آ گیا تھا مِری ہزیمت نے دل گرفتہ کیا ہے تم کو یقین مانو! مَیں اپنے نرغے میں آ گیا تھا سو کس طرح اپنے گھر پہنچتا عتیقؔ احمد تری گلی کا خیال رستے میں آ گیا تھا