ضرورت سے زیادہ دیکھتا ہوں
ضرورت سے زیادہ دیکھتا ہوں سو اپنا ہی تماشہ دیکھتا ہوں نہیں کھُلتا بصیرت کا معمّا ابھی آئینہ سا دیکھتا ہوں بصارت کھو نہ دیں بے مصرف آنکھیں چلو اپنا ہی رستہ دیکھتا ہوں کتابِ عُمر کیا خوش آئے مجھ کو فقط لفظوں کا املا دیکھتا ہوں اگر ممکن نہ ہو، ہونے کا ہونا نہ ہونے کا نہ ہونا دیکھتا ہوں رواں کرتا ہوں دریائے تمنّا پھر اس میں خود کو بہتا دیکھتا ہوں کبھی آنکھوں میں لے آتا ہوں آنکھیں کبھی چہروں میں چہرہ دیکھتا ہوں کبھی باتوں میں کہہ جاتا ہوں باتیں کبھی خاموش بیٹھا دیکھتا ہوں کبھی تکتا نہیں ہوں آنکھ بھر کر کبھی مڑ کر دوبارہ دیکھتا ہوں ارادہ تو نہیں تھا دیکھنے کا جو تم کہتے ہو، اچھا! دیکھتا ہوں عتیقؔ! اب اور کیا ہے دیکھنے کو یہی دنیا وغیرہ دیکھتاہوں