تارہ چمک رہا تھا
-
تارہ چمک رہا تھا رستا چمک رہا تھا چہرہ چمک رہا تھا سونا چمک رہا تھا آنکھیں چمک رہی تھیں دریا چمک رہا تھا ہیرے دمک رہے تھے ماتھا چمک رہا تھا کلیاں چٹک رہی تھیں لہجہ چمک رہا تھا خوابوں میں ابر کا اک ٹکڑا چمک رہا تھا محفل میں وہ ستارہ تنہا چمک رہا تھا اس کی ہوا میں یہ دل کیا کیا چمک رہا تھا دل درد کے مقابل تنہا چمک رہا تھا آنکھوں میں یہ تماشا کب کا چمک رہا تھا دھڑکن ٹھہر گئی تھی دھڑکا چمک رہا تھا صدیوں کے آئنے میں لمحہ چمک رہا تھا