عتیق احمد جیلانی

عتیق احمد جیلانی

بے دِلی کام میں لاتی ہے مجھے

    بے دِلی کام میں لاتی ہے مجھے غم کی تصویر بناتی ہے مجھے صُبح کرتی ہے مرے دن سے گریز رات کے رنگ دکھاتی ہے مجھے ہم سخن ہوتی ہے تنہائی بھی شام بھی شعر سناتی ہے مجھے راستے جب نہیں دیتے رستہ شاعری ڈھونڈ کے لاتی ہے مجھے سائے کی یاد میں لکھی ہوئی نظم دھوپ کے خواب دکھاتی ہے مجھے نیند کے باغ میں آسودہ ہوں ایک خوش بو ہی جگاتی ہے مجھے دہر میں دل کے دھڑکنے کی سہی کوئی آواز تو آتی ہے مجھے دن نکلتے ہی مَیں ڈھے جاتا ہوں روز یہ رات بناتی ہے مجھے پائے مالی کی تمنّا اب تو راستوں ہی میں اُگاتی ہے مجھے ایک حسرت ہے جو آئینے میں تیرے اطراف سجاتی ہے مجھے مَیں وہ دیوارِ عزیمت ہوں کہ روز اک بلا چاٹ کے جاتی ہے مجھے جانتی ہے، نہیں بجھنے والا یہ ہوا پھر بھی ڈراتی ہے مجھے روز مَیں جس کو جلاتا تھا عتیقؔ آج وہ شمع جلاتی ہے مجھے