عتیق احمد جیلانی

عتیق احمد جیلانی

اک صورت دھیان میں لاتا ہوں

    اک صورت دھیان میں لاتا ہوں پھر آئینہ چمکاتا ہوں اے نئے دنوں کی کال! بتا مَیں تجھ سے کیوں کتراتا ہوں اور گئے دنوں کے میسج پر کیوں فوراً فون ملاتا ہوں جب کونج کوئی کرلاتی ہے کیوں اشکوں میں بہہ جاتا ہوں رکھ دیتا ہوں کچھ پھول کہیں کُچھ خواب کہیں بو جاتا ہوں جو مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں میں ایسے نقش بناتا ہوں کچھ دھاگے میرے دھیان میں ہیں اُن دھاگوں کو سلجھاتا ہوں یا خالی بیٹھا لفظوں کو کُچھ شکلوں پر چپکاتا ہوں یا پہروں نیند نہیں آتی یا پڑتے ہی سو جاتا ہوں اِک چکر سا آ جاتا ہے جب دُنیا سے ٹکراتا ہوں ------ تم اپنا ہاتھ بڑھاتے ہو مَیں اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوں تم اپنا چہرہ لاتے ہو میں اپنا چہرہ لاتا ہوں تم اپنا حال سناتے ہو میں اپنے دکھ دُہراتا ہوں تم اپنی باتیں کرتے ہو میں اپنے خواب سجاتا ہوں تم اور طرف لے جاتے ہو مَیں اور طرف کو جاتا ہوں تم مجھ سے ملنے آتے ہو مَیں نظروں میں آ جاتا ہوں تم میرے دھیان میں آتے ہو مَیں اپنے دھیان سے جاتا ہوں تم خاموشی میں کھُلتے ہو مَیں باتوں میں چھُپ جاتا ہوں تم باتیں خوب بناتے ہو میں باتوں سے گھبراتا ہوں تم آنچل کیا لہراتے ہو مَیں رنگوں میں بھر جاتا ہوں تم خوش بو سے بھر دیتے ہو مَیں پھر خالی ہو جاتا ہوں تم منزل تک پہنچاتے ہو مَیں رستے میں رہ جاتا ہوں