دور اس راہ سے سایہ کرکے
دور اس راہ سے سایہ کرکے کیا مِلا آپ کو ایسا کر کے دل میں چھُپ جائیں گے سارے منظر آنکھ کے ساتھ تماشا کر کے آسمانوں کے لیے بھیجی ہے ایک تصویر ستارہ کر کے دیکھ لی نیم نگاہی تیری رکھ دیا مجھ کو بھی آدھا کر کے کیا مِلے گا، مِری پیاری دُنیا کچھ زیادہ تِری پروا کر کے جا لٹپتا ہوں اُسی شعلے سے میری دُنیا! مِری دُنیا! کر کے مر نہ جاؤ تو مرا نام نہیں دیکھ لینا مجھے زندہ کر کے چھین لیتا ہے سمندر مِری پیاس لوٹ آتا ہوں کنارہ کر کے زندگی روگ لگا بیٹھی ہے ایک بیمار کا چارہ کر کے روز جاتی ہے کہاں رات کے ساتھ دیکھ لو شام کا پیچھا کر کے دھوپ کے سائے میں بیٹھا ہوں، عتیقؔ ایک دیوار کا سودا کر کے