آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیا
-
آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیا جا چکے مہمان، مَیں گھر میں اکیلا رہ گیا شہر سارا نیند کے اندھے خلا میں جا بسا جاگتی آنکھیں لیے بس اک دریچہ رہ گیا یہ در و دیار جس کے نام تھے وہ جا چکا گھر کے دروازے پہ اُس کا نام لکھّا رہ گیا میری مٹّی میں کچھ ایسی خواہشیں بوئی گئیں اُگنے والا ہر شجر ہی بے ثمر سا رہ گیا وہ کتاب ایسی کہ جس کے حرف زندہ تا ابد مَیں ورق ایسا کہ لکھّا بھی تو سادہ رہ گیا