چلتے چلتے تھک جاتا ہوں
چلتے چلتے تھک جاتا ہوں پھر بھی منزل تک جاتا ہوں سایہ کرتی ہے تنہائی اندر باہر ڈھک جاتا ہوں خاموشی سے خواب کنارے سارا بوجھ پٹک جاتا ہوں اپنے ہی سائے سے ڈر کر اپنے ساتھ چپک جاتا ہوں خود سے باتیں کرتے کرتے جانے کیا کچھ بک جاتا ہوں تیرا چہرہ پڑھتے پڑھتے کتنی بار اٹک جاتا ہوں تیری خاطر آئینے کو دے کر نوک پلک جاتا ہوں اندر برف جمی رہتی ہے باہر سے تو پک جاتا ہوں تجھ کو پانے کی جلدی میں اپنے ساتھ بھٹک جاتا ہوں مجھ کو تکتی ہے گہرائی روز کنارے تک جاتا ہوں پلکوں پر آنے سے پہلے دل کی اور ڈھلک جاتا ہوں آنے والے ہر لمحے کی سن کر چاپ ٹھٹک جاتا ہوں دُنیا! مجھ سے وحشت کیا ہے؟ اچھا! اَور سرک جاتا ہوں