خواب کی خاک پہ گرتے ہیں ستارے اپنے
-
خواب کی خاک پہ گرتے ہیں ستارے اپنے رنج رکھتے ہیں جو ہم نیند کنارے اپنے روز جل اٹھتی ہیں آنکھیں یہ چراغوں کی طرح شام سے کون کہے، قرض اتارے اپنے ہم نے دیکھا ہے انہیں ہالۂ مہتاب کے گِرد چند آنسو جو کہیں نذر گزارے اپنے ہم نہ تھے کوہِ خموشی سے پلٹنے والے ہم کو آواز نہ دیتے جو ہمارے اپنے بند ہوتی ہی نہیں چشمِ تماشا اک پل جب کسی آنکھ پہ کھُلتے ہیں نظارے اپنے لوگ کہتے ہیں محبت میں خسارہ ہے، عتیقؔ کاش! بڑھتے ہی چلے جائیں خسارے اپنے