بے ارادہ سمجھ میں آئے گا
بے ارادہ سمجھ میں آئے گا کھیل سارا سمجھ میں آئے گا جو نہ دیکھا، دکھائی دے گا ہمیں جو نہ سمجھا، سمجھ میں آئے گا کس قدر زاوئے ہیں دنیا کے ایک آدھا سمجھ میں آئے گا زندگی بھر میں اس سمندر کا کوئی قطرہ سمجھ میں آئے گا آخر اے زندگی! ترا کب تک ناک نقشا سمجھ میں آئے گا نیند پوری لہو میں اترے گی خواب آدھا سمجھ میں آئے گا گر نہ ہونے کی آنکھ سے دیکھا خاک، ہونا سمجھ میں آئے گا ہم بصارت ہی کھو چکے ہوں گے جب تماشا سمجھ میں آئے گا جب یہ موجیں سبق پڑھا دیں گی تب کنارہ سمجھ میں آئے گا کب کوئی شام مجھ میں اترے گی کب ستارہ سمجھ میں آئے گا کب یہ آنکھیں رہائی دیں گی مجھے کب وہ چہرہ سمجھ میں آئے گا کب وہ آواز جگمگائے گی کب اندھیرا سمجھ میں آئے گا کب وہ خوشبو، مجھے پکارے گی کب وہ غنچہ سمجھ میں آئے گا جب تجھے میری شام سوچے گی رنج سارا سمجھ میں آئے گا جب تجھے میری رات روئے گی تب یہ رونا سمجھ میں آئے گا جب تجھے میری صبح دیکھے گی تب اجالا سمجھ میں آئے گا جب تجھے میرے ہاتھ چھو لیں گے کیا ہے چھونا، سمجھ میں آئے گا جب تری یاد کھل کے برسے گی تب یہ صحرا سمجھ میں آئے گا جب تری لہر لے کے جائے گی تب یہ دریا سمجھ میں آئے گا جس کو پہلے سمجھ چکا ہوں، عتیقؔ اب زیادہ سمجھ میں آئے گا