عتیق احمد جیلانی

عتیق احمد جیلانی

بادل مجھ سے آگے آگے اڑتا جاتا تھا

    بادل مجھ سے آگے آگے اڑتا جاتا تھا میں روزانہ پیاسا آتا، پیاسا جاتا تھا بڑھتے قدموں میں زنجیریں ڈالی جاتی تھیں مجھ کو میرے گھر سے روز پکارا جاتا تھا مَیں اپنی اِک اِک ساعت سب جمع و تفریق خاموشی سے لوحِ جاں پر لکھتا جاتا تھا لوگ گھروں میں بیٹھے بیٹھے مجھ پر ہنستے رہتے تھے مَیں جنگل سے خوشبو لینے تنہا جاتا تھا